| 6.
وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي
الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا
وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا
كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍO |
|
6. اور
زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے
مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمہء کرم) پر ہے اور
وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس کے امانت رکھے
جانے کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے، ہر بات کتابِ روشن
(لوحِ محفوظ) میں (درج) ہےo |
| 7.
وَهُوَ الَّذِي خَلَق
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ
أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَلَئِن قُلْتَ
إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ
لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا
إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌO |
|
7. اور
وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و
زیریں کائناتوں) کو چھ روز (یعنی تخلیق و اِرتقاء
کے چھ اَدوار و مراحل) میں پیدا فرمایا اور
(تخلیقِ اَرضی سے قبل) اس کا تختِ اقتدار پانی پر
تھا (اور اس نے اس سے زندگی کے تمام آثار کو اور
تمہیں پیدا کیا) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں
سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے، اور اگر آپ یہ
فرمائیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کر کے)
اٹھائے جاؤ گے تو کافر یقینًا (یہ) کہیں گے کہ یہ
تو صریح جادو کے سوا کچھ (اور) نہیں ہےo |
| 8.
وَلَئِنْ أَخَّرْنَا
عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ
لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلاَ يَوْمَ
يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ
بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَO |
|
8. اور
اگر ہم ان سے چند مقررہ دنوں تک عذاب کو مؤخر
کردیں تو وہ یقینًا کہیں گے کہ اسے کس چیز نے روک
رکھا ہے، خبردار! جس دن وہ (عذاب) ان پر آئے گا
(تو) ان سے پھیرا نہ جائے گا اور وہ (عذاب) انہیں
گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo |
| 9.
وَلَئِنْ أَذَقْنَا
الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا
مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌO |
|
9. اور
اگر ہم انسان کو اپنی جانب سے رحمت کا مزہ چکھاتے
ہیں پھر ہم اسے (کسی وجہ سے) اس سے واپس لے لیتے
ہیں تو وہ نہایت مایوس (اور) ناشکرگزار ہو جاتا ہےo |
| 10.
وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ
نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ
ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ
فَخُورٌO |
|
10. اور
اگر ہم اسے (کوئی) نعمت چکھاتے ہیں اس تکلیف کے
بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو ضرور کہہ اٹھتا ہے کہ
مجھ سے ساری تکلیفیں جاتی رہیں، بیشک وہ بڑا خوش
ہونے والا (اور) فخر کرنے والا (بن جاتا) ہےo |
| 11.
إِلاَّ الَّذِينَ
صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَـئِكَ
لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌO |
|
11.
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک عمل
کرتے رہے، (تو) ایسے لوگوں کے لئے مغفرت اور بڑا
اجر ہےo |
| 12.
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ
بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَآئِقٌ بِهِ
صَدْرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْهِ
كَـنْـزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ
نَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌO |
|
12. بھلا
کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس میں سے کچھ چھوڑ دیں جو
آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور اس سے آپ کا سینہء
(اَطہر) تنگ ہونے لگے (اس خیال سے) کہ کفار یہ
کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر
کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی
فرشتہ کیوں نہیں آیا، (ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اے
رسولِ معظم!) آپ تو صرف ڈر سنانے والے ہیں (کسی کو
دنیوی لالچ یا سزا دینے والے نہیں)، اور اﷲ ہر چیز
پر نگہبان ہےo |
| 13.
أَمْ يَقُولُونَ
افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ
مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ
اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن كُنتُمْ
صَادِقِينَO |
|
13. کیا
کفار یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس (قرآن) کو خود
گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: تم (بھی) اس جیسی گھڑی
ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اﷲ کے سوا (اپنی مدد کے
لئے) جسے بھی بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہوo |
| 14.
فَإِن لَّمْ
يَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا
أُنزِلَ بِعِلْمِ اللّهِ وَأَن لاَّ إِلَـهَ
إِلاَّ هُوَ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَO |
|
14. (اے
مسلمانو!) سو اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو
یقین رکھو کہ قرآن فقط اﷲ کے علم سے اتارا گیا ہے
اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا (اب)
تم اسلام پر (ثابت قدم) رہو گےo |
| 15.
مَن كَانَ يُرِيدُ
الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ
إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا
لاَ يُبْخَسُونَO |
|
15. جو
لوگ (فقط) دنیوی زندگی اور اس کی زینت (و آرائش)
کے طالب ہیں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی
دنیا میں دے دیتے ہیں اور انہیں اس (دنیا کے صلہ)
میں کوئی کمی نہیں دی جاتیo |
| 16.
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ
لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ
وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا
كَانُواْ يَعْمَلُونَO |
|
16. یہ
وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کچھ (حصہ) نہیں
سوائے آتشِ (دوزخ) کے، اور وہ سب (اَعمال اپنے
اُخروی اَجر کے حساب سے) اکارت ہوگئے جو انہوں نے
دنیا میں انجام دیئے تھے اور وہ (سب کچھ) باطل و
بے کار ہوگیا جو وہ کرتے رہے تھے (کیونکہ ان کا
حساب پورے اجر کے ساتھ دنیا میں ہی چکا دیا گیا ہے
اور آخرت کے لئے کچھ نہیں بچا)o |
| 17.
أَفَمَن كَانَ عَلَى
بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ
مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إَمَامًا
وَرَحْمَةً أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن
يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ
مَوْعِدُهُ فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ
إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـكِنَّ
أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَO |
|
17. وہ
شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہے اور اﷲ
کی جانب سے ایک گواہ (قرآن) بھی اس شخص کی تائید و
تقویت کے لئے آگیا ہے اور اس سے قبل موسٰی (علیہ
السلام) کی کتاب (تورات) بھی جو رہنما اور رحمت
تھی (آچکی ہو) یہی لوگ اس (قرآن) پر ایمان لاتے
ہیں، کیا (یہ) اور (کافر) فرقوں میں سے وہ شخص جو
اس (قرآن) کا منکر ہے (برابر ہوسکتے ہیں) جبکہ
آتشِ دوزخ اس کا ٹھکانا ہے، سو (اے سننے والے!)
تجھے چاہئے کہ تو اس سے متعلق ذرا بھی شک میں نہ
رہے، بیشک یہ (قرآن) تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن
اکثر لوگ ایمان نہیں لاتےo |
| 18.
وَمَنْ أَظْلَمُ
مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا
أُوْلَـئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ
وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَـؤُلاَءِ الَّذِينَ
كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ
عَلَى الظَّالِمِينَO |
|
18. اور
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا
بہتان باندھتا ہے، ایسے ہی لوگ اپنے رب کے حضور
پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے: یہی وہ لوگ
ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، جان لو کہ
ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہےo |
| 19.
الَّذِينَ يَصُدُّونَ
عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم
بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَO |
|
19. جو
لوگ (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس
میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور وہی لوگ آخرت کے منکر
ہیںo |
| 20.
أُولَـئِكَ لَمْ
يَكُونُواْ مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانَ
لَهُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ
يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُواْ
يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُواْ
يُبْصِرُونَO |
|
20. یہ
لوگ (اﷲ کو) زمین میں عاجز کر سکنے والے نہیں اور
نہ ہی ان کے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار ہیں۔ ان کے
لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا (کیونکہ) نہ وہ (حق
بات) سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ (حق کو) دیکھ
ہی سکتے تھےo |
| 21.
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ
خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا
كَانُواْ يَفْتَرُونَO |
|
21. یہی
لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور
جو بہتان وہ باندھتے تھے وہ (سب) ان سے جاتے رہےo |
| 22.
لاَ جَرَمَ أَنَّهُمْ
فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَO |
|
22. یہ
بالکل حق ہے کہ یقینًا وہی لوگ آخرت میں سب سے
زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیںo |
| 23.
إِنَّ الَّذِينَ
آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُواْ
إِلَى رَبِّهِمْ أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ
هُمْ فِيهَا خَالِدُونَO |
|
23. بیشک
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے
رب کے حضور عاجزی کرتے رہے یہی لوگ اہلِ جنت ہیں
وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo |
| 24.
مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ
كَالْأَعْمَى وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِـيـرِ
وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلاً أَفَلاَ
تَذَكَّرُونَO |
|
24.
(کافر و مسلم) دونوں فریقوں کی مثال اندھے اور
بہرے اور (اس کے برعکس) دیکھنے والے اور سننے والے
کی سی ہے۔ کیا دونوں کا حال برابر ہے؟ کیا تم پھر
(بھی) نصیحت قبول نہیں کرتےo |
| 25.
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا
نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ
مُّبِينٌO |
|
25. اور
بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف
بھیجا، (انہوں نے ان سے کہا:) میں تمہارے لئے کھلا
ڈر سنانے والا (بن کر آیا) ہوںo |
| 26.
أَن لاَّ تَعْبُدُواْ
إِلاَّ اللّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ
يَوْمٍ أَلِيمٍO |
|
26. کہ
تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں تم پر
دردناک دن کے عذاب (کی آمد) کا خوف رکھتا ہوںo |
| 27.
فَقَالَ الْمَلَأُ
الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قِوْمِهِ مَا نَرَاكَ
إِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ
اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا
بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا
مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَO |
|
27. سو
ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے
کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر
دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو
تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے
(معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر
لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے
ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و
برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری
جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی
نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں
جھوٹا سمجھتے ہیںo |
| 28.
قَالَ يَا قَوْمِ
أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن
رَّبِّيَ وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ
فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا
وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَO |
|
28. (نوح
علیہ السلام نے) کہا: اے میری قوم! بتاؤ تو سہی
اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر بھی ہوں
اور اس نے مجھے اپنے حضور سے (خاص) رحمت بھی بخشی
ہو مگر وہ تمہارے اوپر (اندھوں کی طرح) پوشیدہ کر
دی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر جبراً مسلّط کر
سکتے ہیں درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کرتے ہوo |
| 29.
وَيَا قَوْمِ لاَ
أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالاً إِنْ أَجْرِيَ
إِلاَّ عَلَى اللّهِ وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ
الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّهُم مُّلاَقُواْ
رَبِّهِمْ وَلَـكِنِّيَ أَرَاكُمْ قَوْمًا
تَجْهَلُونَO |
|
29. اور
اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی
مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف
اﷲ (کے ذمہء کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان
(غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں
دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت
سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے
رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں
تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا
ہوںo |
| 30.
وَيَا قَوْمِ مَن
يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ أَفَلاَ
تَذَكَّرُونَO |
|
30. اور
اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے
غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا
تم غور نہیں کرتےo |
| 31.
وَلاَ أَقُولُ لَكُمْ
عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلاَ أَعْلَمُ الْغَيْبَ
وَلاَ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلاَ أَقُولُ
لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن
يُؤْتِيَهُمُ اللّهُ خَيْرًا اللّهُ أَعْلَمُ
بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَّمِنَ
الظَّالِمِينَO |
|
31. اور
میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے
ہیں (یعنی میں بے حد دولت مند ہوں) اور نہ (یہ کہ)
میں (اﷲ کے بتائے بغیر) خود غیب جانتا ہوں اور نہ
میں یہ کہتا ہوں کہ میں (انسان نہیں) فرشتہ ہوں
(میری دعوت کرشماتی دعوؤں پر مبنی نہیں ہے) اور نہ
ان لوگوں کی نسبت جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر جان
رہی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ انہیں ہرگز کوئی بھلائی
نہ دے گا (یہ اﷲ کا امر اور ہر شخص کا نصیب ہے)،
اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر
ایسا کہوں تو) بیشک میں اسی وقت ظالموں میں سے ہو
جاؤں گاo |
| 32.
قَالُواْ يَا نُوحُ
قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا
فَأْتَنِا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ
الصَّادِقِينَO |
|
32. وہ
کہنے لگے: اے نوح! بیشک تم ہم سے جھگڑ چکے سو تم
نے ہم سے بہت جھگڑا کر لیا، بس اب ہمارے پاس وہ
(عذاب) لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم
(واقعی) سچے ہوo |
| 33.
قَالَ إِنَّمَا
يَأْتِيكُم بِهِ اللّهُ إِن شَاءَ وَمَا أَنتُم
بِمُعْجِزِينَO |
|
33. (نوح
علیہ السلام نے) کہا: وہ (عذاب) تو بس اﷲ ہی تم پر
لائے گا اگر اس نے چاہا اور تم (اسے) عاجز نہیں
کرسکتےo |
| 34.
وَلاَ يَنفَعُكُمْ
نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن
كَانَ اللّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ هُوَ
رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَO |
|
34. اور
میری نصیحت (بھی) تمہیں نفع نہ دے گی خواہ میں
تمہیں نصیحت کرنے کا ارادہ کروں اگر اﷲ نے تمہیں
گمراہ کرنے کا ارادہ فرما لیا ہو، وہ تمہارا رب ہے
اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo |
| 35.
أَمْ يَقُولُونَ
افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ
إِجْرَامِي وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَO |
|
35. (اے
حبیبِ مکرّم!) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے
اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: اگر میں
نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرے جرم (کا وبال) مجھ پر
ہوگا اور میں اس سے بری ہوں جو جرم تم کر رہے ہوo |
| 36.
وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ
أَنَّهُ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلاَّ مَن
قَدْ آمَنَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُواْ
يَفْعَلُونَO |
|
36. اور
نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ (اب) ہرگز
تمہاری قوم میں سے (مزید) کوئی ایمان نہیں لائے گا
سوائے ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لا چکے ہیں، سو
آپ ان کے (تکذیب و استہزا کے) کاموں سے رنجیدہ نہ
ہوںo |
| 37.
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ
بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلاَ تُخَاطِبْنِي فِي
الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَO |
|
37. اور
تم ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی بناؤ
اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے (کوئی) بات نہ
کرنا، وہ ضرور غرق کئے جائیں گےo |
| 38.
وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ
وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ
سَخِرُواْ مِنْهُ قَالَ إِن تَسْخَرُواْ مِنَّا
فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَO |
|
38. اور
نوح (علیہ السلام) کشتی بناتے رہے اور جب بھی ان
کی قوم کے سردار اُن کے پاس سے گزرتے ان کا مذاق
اڑاتے۔ نوح (علیہ السلام انہیں جوابًا) کہتے: اگر
(آج) تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو (کل) ہم بھی تم سے
تمسخر کریں گے جیسے تم تمسخر کر رہے ہوo |
| 39.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ
عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌO |
|
39. سو
تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر (دنیا میں ہی) عذاب
آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کر دے گا اور (پھر آخرت
میں بھی کس پر) ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب اترتا
ہےo |
| 40.
حَتَّى إِذَا جَاءَ
أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ
فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ
إِلاَّ مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ
آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِيلٌO |
|
40. یہاں
تک کہ جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا اور تنور (پانی
کے چشموں کی طرح) جوش سے ابلنے لگا (تو) ہم نے
فرمایا: (اے نوح!) اس کشتی میں ہر جنس میں سے (نر
اور مادہ) دو عدد پر مشتمل جوڑا سوار کر لو اور
اپنے گھر والوں کو بھی (لے لو) سوائے ان کے جن پر
(ہلاکت کا) فرمان پہلے صادر ہو چکا ہے اور جو کوئی
ایمان لے آیا ہے (اسے بھی ساتھ لے لو)، اور چند
(لوگوں) کے سوا ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لایا
تھاo |
| 41.
وَقَالَ ارْكَبُواْ
فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِےهَا وَمُرْسَاهَا
إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO |
|
41. اور
نوح (علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ اس میں سوار ہو
جاؤ اﷲ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا
ہے۔ بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان
ہےo |
| 42.
وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ
فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ
وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا
وَلاَ تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَO |
|
42. اور
وہ کشتی پہاڑوں جیسی (طوفانی) لہروں میں انہیں لئے
چلتی جا رہی تھی کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے
بیٹے کو پکارا اور وہ ان سے الگ (کافروں کے ساتھ
کھڑا) تھا: اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا
اور کافروں کے ساتھ نہ رہo |
| 43.
قَالَ سَآوِي إِلَى
جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لاَ
عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ إِلاَّ مَن
رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ
مِنَ الْمُغْرَقِينَO |
|
43. وہ
بولا: میں (کشتی میں سوار ہونے کے بجائے) ابھی کسی
پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچا لے
گا۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا: آج اﷲ کے عذاب سے
کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر اس شخص کو جس پر وہی
(اﷲ) رحم فرما دے، اسی اثنا میں دونوں (یعنی باپ
بیٹے) کے درمیان (طوفانی) موج حائل ہوگئی سو وہ
ڈوبنے والوں میں ہوگیاo |
| 44.
وَقِيلَ يَا أَرْضُ
ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ
الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى
الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْداً لِّلْقَوْمِ
الظَّالِمِينَO |
|
44. اور
(جب سفینہء نوح کے سوا سب ڈوب کر ہلاک ہو چکے تو)
حکم دیا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے
آسمان! تو تھم جا، اور پانی خشک کر دیا گیا اور
کام تمام کر دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا
ٹھہری، اور فرما دیا گیا کہ ظالموں کے لئے (رحمت
سے) دوری ہےo |
| 45.
وَنَادَى نُوحٌ
رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي
وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ
الْحَاكِمِينَO |
|
45. اور
نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اور عرض
کیا: اے میرے رب! بیشک میرا لڑکا (بھی) تو میرے
گھر والوں میں داخل تھا اور یقینًا تیرا وعدہ سچا
ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہےo |
| 46.
قَالَ يَا نُوحُ
إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ
غَيْرُ صَالِحٍ فَلاَ تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ
بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ
الْجَاهِلِينَO |
|
46.
ارشاد ہو: اے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں میں
شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے، پس مجھ
سے وہ سوال نہ کیا کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو، میں
تمہیں نصیحت کئے دیتا ہوں کہ کہیں تم نادانوں میں
سے (نہ) ہو جاناo |
| 47.
قَالَ رَبِّ إِنِّي
أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ
عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن
مِّنَ الْخَاسِرِينَO |
|
47. (نوح
علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میں اس بات
سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ سوال کروں جس
کا مجھے کچھ علم نہ ہو، اور اگر تو مجھے نہ بخشے
گا اور مجھ پر رحم (نہ) فرمائے گا (تو) میں نقصان
اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گاo |
| 48.
قِيلَ يَا نُوحُ
اهْبِطْ بِسَلاَمٍ مِّنَّا وَبَركَاتٍ عَلَيْكَ
وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ
سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ
أَلِيمٌO |
|
48.
فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور
برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں
اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں، اور
(آئندہ پھر) کچھ طبقے ایسے ہوں گے جنہیں ہم (دنیوی
نعمتوں سے) بہرہ یاب فرمائیں گے پھر انہیں ہماری
طرف سے دردناک عذاب آپہنچے گاo |
| 49.
تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ
الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنتَ
تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلاَ قَوْمُكَ مِن قَبْلِ
هَـذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ
لِلْمُتَّقِينَO |
|
49. یہ
(بیان ان) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف
وحی کرتے ہیں، اس سے قبل نہ آپ انہیں جانتے تھے
اور نہ آپ کی قوم، پس آپ صبر کریں۔ بیشک بہتر
انجام پرہیزگاروں ہی کے لئے ہےo |
| 50.
وَإِلَى عَادٍ
أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ
اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ إِنْ
أَنتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَO |
|
50. اور
(ہم نے) قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ
السلام) کو (بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم اﷲ
کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارے لئے کوئی معبود
نہیں، تم اﷲ پر (شریک رکھنے کا) محض بہتان باندھنے
والے ہوo |
| 51.
يَا قَوْمِ لاَ
أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ
إِلاَّ عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلاَ
تَعْقِلُونَO |
|
51. اے
میری قوم! میں اس (دعوت و تبلیغ) پر تم سے کوئی
اجر نہیں مانگتا، میرا اجر فقط اس (کے ذمہء کرم)
پر ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے، کیا تم عقل سے
کام نہیں لیتےo |
| 52.
وَيَا قَوْمِ
اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ
يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا
وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلاَ
تَتَوَلَّوْاْ مُجْرِمِينَO |
|
52. اور
اے لوگو! تم اپنے رب سے (گناہوں کی) بخشش مانگو
پھر اس کی جناب میں (صدقِ دل سے) رجوع کرو، وہ تم
پر آسمان سے موسلادھار بارش بھیجے گا اور تمہاری
قوت پر قوت بڑھائے گا اور تم مجرم بنتے ہوئے اس سے
روگردانی نہ کرناo |
| 53.
قَالُواْ يَا هُودُ مَا
جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي
آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ
بِمُؤْمِنِينَO |
|
53. وہ
بولے: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لیکر
نہیں آئے ہو اور نہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے
معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ ہی ہم تم پر
ایمان لانے والے ہیںo |
| 54.
إِن نَّقُولُ إِلاَّ
اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ
إِنِّي أُشْهِدُ اللّهَ وَاشْهَدُواْ أَنِّي
بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَO |
|
54. ہم
اس کے سوا (کچھ) نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے معبودوں
میں سے کسی نے تمہیں (دماغی خلل کی) بیماری میں
مبتلا کر دیا ہے۔ ہود (علیہ السلام)نے کہا: بیشک
میں اﷲ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ
میں ان سے لاتعلق ہوں جنہیں تم شریک گردانتے ہوo |
| 55.
مِن دُونِهِ
فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِO |
|
55. اس
(اﷲ) کے سوا تم سب (بشمول تمہارے معبودانِ باطلہ)
مل کر میرے خلاف (کوئی) تدبیر کرلو پھر مجھے مہلت
بھی نہ دوo |
| 56.
إِنِّي تَوَكَّلْتُ
عَلَى اللّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ
إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي
عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍO |
|
56. بیشک
میں نے اﷲ پر توکل کر لیا ہے جو میرا (بھی) رب ہے
اور تمہارا (بھی) رب ہے، کوئی چلنے والا (جاندار)
ایسا نہیں مگر وہ اسے اس کی چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے
(یعنی مکمل طور پر اس کے قبضہء قدرت میں ہے)۔ بیشک
میرا رب (حق و عدل میں) سیدھی راہ پر (چلنے سے
ملتا) ہےo |
| 57.
فَإِن تَوَلَّوْاْ
فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ
إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا
غَيْرَكُمْ وَلاَ تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ
رَبِّي عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌO |
|
57. پھر
بھی اگر تم روگردانی کرو تو میں نے واقعۃً وہ
(تمام احکام) تمہیں پہنچا دیئے ہیں جنہیں لے کر
میں تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں، اور میرا رب تمہاری
جگہ کسی اور قوم کو قائم مقام بنا دے گا، اور تم
اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے۔ بیشک میرا رب ہر
چیز پر نگہبان ہےo |
| 58.
وَلَمَّا جَاءَ
أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ
مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ
عَذَابٍ غَلِيظٍO |
|
58. اور
جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا (تو) ہم نے ہود (علیہ
السلام) کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی
رحمت کے باعث بچا لیا، اور ہم نے انہیں سخت عذاب
سے نجات بخشیo |
| 59.
وَتِلْكَ عَادٌ
جَحَدُواْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْاْ رُسُلَهُ
وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍO |
|
59. اور
یہ (قومِ) عاد ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا
انکار کیا اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر
جابر (و متکبر) دشمنِ حق کے حکم کی پیروی کیo |
| 60.
وَأُتْبِعُواْ فِي
هَـذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ
الْقِيَامَةِ أَلاَ إِنَّ عَادًا كَفَرُواْ
رَبَّهُمْ أَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍO |
|
60. اور
اس دنیا میں (بھی) ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی
اور قیامت کے دن (بھی لگے گی)۔ یاد رکھو کہ (قومِ)
عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا تھا۔ خبردار! ہود
(علیہ السلام) کی قومِ عاد کے لئے (رحمت سے) دوری
ہےo |
| 61.
وَإِلَى ثَمُودَ
أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ
اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ هُوَ
أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ
فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ
إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌO |
|
61. اور
(ہم نے قومِ) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ
السلام) کو (بھیجا)۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم!
اﷲ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود
نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور اس
میں تمہیں آباد فرمایا سو تم اس سے معافی مانگو
پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے
دعائیں قبول فرمانے والا ہےo |
| 62.
قَالُواْ يَا صَالِحُ
قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَـذَا
أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ
آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا
تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍO |
|
62. وہ
بولے: اے صالح! اس سے قبل ہماری قوم میں تم ہی
امیدوں کا مرکز تھے، کیا تم ہمیں ان (بتوں) کی
پرستش کرنے سے روک رہے ہو جن کی ہمارے باپ دادا
پرستش کرتے رہے ہیں؟ اور جس (توحید) کی طرف تم
ہمیں بلا رہے ہو یقینًا ہم اس کے بارے میں بڑے
اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیںo |
| 63.
قَالَ يَا قَوْمِ
أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن
رَّبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَن
يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا
تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِـيْـرٍO |
|
63. صالح
(علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! ذرا سوچو تو
سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر
(قائم) ہوں اور مجھے اس کی جانب سے (خاص) رحمت
نصیب ہوئی ہے، (اس کے بعد اس کے احکام تم تک نہ
پہنچا کر) اگر میں اس کی نافرمانی کر بیٹھوں تو
کون شخص ہے جو اﷲ (کے عذاب) سے بچانے میں میری مدد
کرسکتا ہے؟ پس سوائے نقصان پہنچانے کے تم میرا
(اور) کچھ نہیں بڑھا سکتےo |
| 64.
وَيَا قَوْمِ هَـذِهِ
نَاقَةُ اللّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ
فِي أَرْضِ اللّهِ وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ
فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌO |
|
64. اور
اے میری قوم! یہ اﷲ کی (خاص طریقہ سے پیدا کردہ)
اونٹنی ہے (جو) تمہارے لئے نشانی ہے سو اسے چھوڑے
رکھو (یہ) اﷲ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی
تکلیف نہ پہنچانا ورنہ تمہیں قریب (واقع ہونے
والا) عذاب آپکڑے گاo |
| 65.
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ
تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ
ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍO |
|
65. پھر
انہوں نے اسے (کونچیں کاٹ کر) ذبح کر ڈالا، صالح
(علیہ السلام) نے کہا: (اب) تم اپنے گھروں میں
(صرف) تین دن (تک) عیش کرلو، یہ وعدہ ہے جو (کبھی)
جھوٹا نہ ہوگاo |
| 66.
فَلَمَّا جَاءَ
أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ
آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ
يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ
الْعَزِيزُO |
|
66. پھر
جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا (تو) ہم نے صالح
(علیہ السلام) کو اور جو ان کے ساتھ ایمان والے
تھے اپنی رحمت کے سبب سے بچا لیا اور اس دن کی
رسوائی سے (بھی نجات بخشی)۔ بیشک آپ کا رب ہی
طاقتور غالب ہےo |
| 67.
وَأَخَذَ الَّذِينَ
ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي
دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَO |
|
67. اور
ظالم لوگوں کو ہولناک آواز نے آپکڑا، سو انہوں نے
صبح اس طرح کی کہ اپنے گھروں میں (مُردہ حالت میں)
اوندھے پڑے رہ گئےo |
| 68.
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ
فِيهَا أَلاَ إِنَّ ثَمُودَ كَفرُواْ رَبَّهُمْ
أَلاَ بُعْدًا لِّثَمُودَO |
|
68. گویا
وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، یاد رکھو! (قومِ)
ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا تھا۔ خبردار! (قومِ)
ثمود کے لئے (رحمت سے) دوری ہےo |
| 69.
وَلَقَدْ جَاءَتْ
رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُـشْرَى قَالُواْ
سَلاَمًا قَالَ سَلاَمٌ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ
بِعِجْلٍ حَنِيذٍO |
|
69. اور
بیشک ہمارے فرستادہ فرشتے ابراہیم (علیہ السلام)
کے پاس خوشخبری لے کر آئے، انہوں نے سلام کہا،
ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی (جوابًا) سلام کہا،
پھر (آپ علیہ السلام نے) دیر نہ کی یہاں تک کہ (ان
کی میزبانی کے لئے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئےo |
| 70.
فَلَمَّا رَأَى
أَيْدِيَهُمْ لاَ تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ
وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُواْ لاَ تَخَفْ
إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍO |
|
70. پھر
جب (ابراہیم علیہ السلام نے) دیکھا کہ ان کے ہاتھ
اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہیں اجنبی
سمجھا اور (اپنے) دل میں ان سے کچھ خوف محسوس کرنے
لگے، انہوں نے کہا: آپ مت ڈریئے! ہم قومِ لوط کی
طرف بھیجے گئے ہیںo |
| 71.
وَامْرَأَتُهُ
قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ
وَمِن وَرَاءِ إِسْحَقَ يَعْقُوبَO |
|
71. اور
ان کی اہلیہ (سارہ پاس ہی) کھڑی تھیں تو وہ ہنس
پڑیں سو ہم نے ان (کی زوجہ) کو اسحاق (علیہ
السلام) کی اور اسحاق (علیہ السلام) کے بعد یعقوب
(علیہ السلام) کی بشارت دیo |
| 72.
قَالَتْ يَا وَيْلَتَى
أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِي
شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌO |
|
72. وہ
کہنے لگیں: وائے حیرانی! کیا میں بچہ جنوں گی
حالانکہ میں بوڑھی (ہو چکی) ہوں اور میرے یہ شوہر
(بھی) بوڑھے ہیں! بیشک یہ تو بڑی عجیب چیز ہےo |
| 73.
قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ
مِنْ أَمْرِ اللّهِ رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ
عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ
مَّجِيدٌO |
|
73.
فرشتوں نے کہا: کیا تم اﷲ کے حکم پر تعجب کر رہی
ہو؟ اے گھر والو! تم پر اﷲ کی رحمت اور اس کی
برکتیں ہیں، بیشک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا
ہےo |
| 74.
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ
إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى
يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍO |
|
74. پھر
جب ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف جاتا رہا اور ان
کے پاس بشارت آچکی تو ہمارے (فرشتوں کے) ساتھ قومِ
لوط کے بارے میں جھگڑنے لگےo |
| 75.
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ
لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌO |
|
75. بیشک
ابراہیم (علیہ السلام) بڑے متحمل مزاج، آہ و زاری
کرنے والے ہر حال میں ہماری طرف رجوع کر نے والے
تھےo |
| 76.
يَا إِبْرَاهِيمُ
أَعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ
رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ
مَرْدُودٍO |
|
76.
(فرشتوں نے کہا:) اے ابراہیم! اس (بات) سے درگزر
کیجئے، بیشک اب تو آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آچکا
ہے، اور انہیں عذاب پہنچنے ہی والا ہے جو پلٹایا
نہیں جا سکتاo |
| 77.
وَلَمَّا جَاءَتْ
رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ
ذَرْعًا وَقَالَ هَـذَا يَوْمٌ عَصِيبٌO |
|
77. اور
جب ہمارے فرستادہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس
آئے (تو) وہ ان کے آنے سے پریشان ہوئے اور ان کے
باعث (ان کی) طاقت کمزور پڑ گئی اور کہنے لگے: یہ
بہت سخت دن ہے (فرشتے نہایت خوب رُو تھے اور حضرت
لوط علیہ السلام کو اپنی قوم کی بری عادت کا علم
تھا سو ممکنہ فتنہ کے اندیشہ سے پریشان ہوئے)o |
| 78.
وَجَاءَهُ قَوْمُهُ
يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُواْ
يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ
هَـؤُلاَءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ
فَاتَّقُواْ اللّهَ وَلاَ تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي
أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌO |
|
78. (سو
وہی ہوا جس کا انہیں اندیشہ تھا) اور لوط (علیہ
السلام) کی قوم (مہمانوں کی خبر سنتے ہی) ان کے
پاس دوڑتی ہوئی آگئی، اور وہ پہلے ہی برے کام کیا
کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا: اے میری
(نافرمان) قوم! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں یہ
تمہارے لئے (بطریقِ نکاح) پاکیزہ و حلال ہیں سو تم
اﷲ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں (اپنی بے حیائی کے
باعث) مجھے رسوا نہ کرو! کیا تم میں سے کوئی بھی
نیک سیرت آدمی نہیں ہےo |
| 79.
قَالُواْ لَقَدْ
عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُO |
|
79. وہ
بولے: تم خوب جانتے ہو کہ ہمیں تمہاری (قوم کی)
بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں، اور تم یقینًا جانتے ہو
جو کچھ ہم چاہتے ہیںo |
| 80.
قَالَ لَوْ أَنَّ لِي
بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍO |
|
80. لوط
(علیہ السلام) نے کہا: کاش! مجھ میں تمہارے مقابلہ
کی ہمت ہوتی یا میں (آج) کسی مضبوط قلعہ میں پناہ
لے سکتاo |
| 81.
قَالُواْ يَا لُوطُ
إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُواْ إِلَيْكَ
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ
وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ
امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ
إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ
بِقَرِيبٍO |
|
81. (تب
فرشتے) کہنے لگے: اے لوط! ہم آپ کے رب کے بھیجے
ہوئے ہیں۔ یہ لوگ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے، پس
آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کچھ حصہ میں لے کر
نکل جائیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر (پیچھے) نہ
دیکھے مگر اپنی عورت کو (ساتھ نہ لینا)، یقینًا
اسے (بھی) وہی (عذاب) پہنچنے والا ہے جو انہیں
پہنچے گا۔ بیشک ان (کے عذاب) کا مقررہ وقت صبح
(کا) ہے، کیا صبح قریب نہیں ہےo |
| 82.
فَلَمَّا جَاءَ
أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ
مَّنضُودٍO |
|
82. پھر
جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا تو ہم نے (الٹ کر) اس
بستی کے اوپر کے حصہ کو نچلا حصہ کر دیا اور ہم نے
اس پر پتھر اور پکی ہوئی مٹی کے کنکر برسائے جو پے
در پے (اور تہ بہ تہ) گرتے رہےo |
| 83.
مُّسَوَّمَةً عِندَ
رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍO |
|
83. جو
آپ کے رب کی طرف سے نشان کئے ہوئے تھے، اور یہ
(سنگ ریزوں کا عذاب) ظالموں سے (اب بھی) کچھ دور
نہیں ہےo |
| 84.
وَإِلَى مَدْيَنَ
أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ
اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ وَلاَ
تَنقُصُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّيَ
أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ
عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍO |
|
84. اور
(ہم نے اہلِ) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ
السلام کو بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ
کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود
نہیں ہے، اور ناپ اور تول میں کمی مت کیا کرو بیشک
میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور میں تم پر
ایسے دن کے عذاب کا خوف (محسوس) کرتا ہوں جو
(تمہیں) گھیر لینے والا ہےo |
| 85.
وَيَا قَوْمِ أَوْفُواْ
الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ
تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلاَ
تَعْثَوْاْ فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَO |
|
85. اور
اے میری قوم! تم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورے
کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا
کرو اور فساد کرنے والے بن کر ملک میں تباہی مت
مچاتے پھروo |
| 86.
بَقِيَّةُ اللّهِ
خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا
أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍO |
|
86. جو
اﷲ کے دیئے میں بچ رہے (وہی) تمہارے لئے بہتر ہے
اگر تم ایمان والے ہو، اور میں تم پر نگہبان نہیں
ہوںo |
| 87.
قَالُواْ يَا شُعَيْبُ
أَصَلاَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا
يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي
أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لَأَنتَ
الْحَلِيمُ الرَّشِيدُO |
|
87. وہ
بولے! اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم
دیتی ہے کہ ہم ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی
پرستش ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں یا یہ کہ ہم جو
کچھ اپنے اموال کے بارے میں چاہیں (نہ) کریں؟ بیشک
تم ہی (ایک) بڑے تحمل والے ہدایت یافتہ (رہ گئے)
ہوo |
| 88.
قَالَ يَا قَوْمِ
أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىَ بَيِّنَةٍ مِّن
رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا
أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ
عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلاَّ الْإِصْلاَحَ مَا
اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُO |
|
88. شعیب
(علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! ذرا بتاؤ کہ
اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور
اس نے مجھے اپنی بارگاہ سے عمدہ رزق (بھی) عطا
فرمایا (تو پھر حق کی تبلیغ کیوں نہ کروں؟)، اور
میں یہ (بھی) نہیں چاہتا کہ تمہارے پیچھے لگ کر
(حق کے خلاف) خود وہی کچھ کرنے لگوں جس سے میں
تمہیں منع کر رہا ہوں، میں تو جہاں تک مجھ سے ہو
سکتا ہے (تمہاری) اصلاح ہی چاہتا ہوں، اور میری
توفیق اﷲ ہی (کی مدد) سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ
کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوںo |
| 89.
وَيَا قَوْمِ لاَ
يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ
مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ
قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم
بِبَعِيدٍO |
|
89. اور
اے میری قوم! مجھ سے دشمنی و مخالفت تمہیں یہاں تک
نہ ابھار دے کہ (جس کے باعث) تم پر وہ (عذاب)
آپہنچے جیسا (عذاب) قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ
صالح کو پہنچا تھا، اور قومِ لوط (کا زمانہ تو) تم
سے کچھ دور نہیں (گزرا)o |
| 90.
وَاسْتَغْفِرُواْ
رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي
رَحِيمٌ وَدُودٌO |
|
90. اور
تم اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کے حضور (صدقِ
دل سے) توبہ کرو، بیشک میرا رب نہایت مہربان محبت
فرمانے والا ہےo |
| 91.
قَالُواْ يَا شُعَيْبُ
مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا
لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلاَ رَهْطُكَ
لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍO |
|
91. وہ
بولے: اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں
نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے معاشرے میں ایک کمزور
شخص جانتے ہیں، اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم
تمہیں سنگ سار کر دیتے اور (ہمیں اسی کا لحاظ ہے
ورنہ) تم ہماری نگاہ میں کوئی عزت والے نہیں ہوo |
| 92.
قَالَ يَا قَوْمِ
أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللّهِ
وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ
رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌO |
|
92. شعیب
(علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! کیا میرا کنبہ
تمہارے نزدیک اﷲ سے زیادہ معزز ہے، اور تم نے اسے
(یعنی اللہ تعالیٰ کو گویا) اپنے پس پشت ڈال رکھا
ہے۔ بیشک میرا رب تمہارے (سب) کاموں کو احاطہ میں
لئے ہوئے ہےo |
| 93.
وَيَا قَوْمِ
اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ
سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ
يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُواْ
إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌO |
|
93. اور
اے میری قوم! تم اپنی جگہ کام کرتے رہو میں اپنا
کام کر رہا ہوں۔ تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر وہ
عذاب آپہنچتا ہے جو رسوا کر ڈالے گا اور کون ہے جو
جھوٹا ہے، اور تم بھی انتظار کرتے رہو اور میں
(بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہوںo |
| 94.
وَلَمَّا جَاءَ
أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ
آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ
الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ
فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَO |
|
94. اور
جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا تو ہم نے شعیب (علیہ
السلام) کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی
رحمت کے باعث بچالیا اور ظالموں کو خوفناک آواز نے
آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے
گھروں میں (مردہ حالت) میں اوندھے پڑے رہ گئےo |
| 95.
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ
فِيهَا أَلاَ بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ
ثَمُودُO |
|
95. گویا
وہ ان میں کبھی بسے ہی نہ تھی۔ سنو! (اہلِ) مدین
کے لئے ہلاکت ہے جیسے (قومِ) ثمود ہلاک ہوئی تھیo |
| 96.
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا
مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍO |
|
96. اور
بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (بھی) اپنی
نشانیوں اور روشن برہان کے ساتھ بھیجاo |
| 97.
إِلَى فِرْعَوْنَ
وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا
أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍO |
|
97.
فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، تو (قوم کے)
سرداروں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ
فرعون کا حکم درست نہ تھاo |
| 98.
يَقْدُمُ قَوْمَهُ
يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ
وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُO |
|
98. وہ
قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا بالآخر
انہیں آتشِ دوزخ میں لا گرائے گا، اور وہ داخل کئے
جانے کی کتنی بری جگہ ہےo |
| 99.
وَأُتْبِعُواْ فِي
هَـذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ بِئْسَ
الرِّفْدُ الْمَرْفُودُO |
|
99. اور
اس دنیا میں (بھی) لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی
اور قیامت کے دن (بھی ان کے پیچھے رہے گی)، کتنا
برا عطیہ ہے جو انہیں دیا گیا ہےo |
| 100.
ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ
الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ
وَحَصِيدٌO |
|
100. (اے
رسولِ معظم!) یہ (ان) بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو
ہم آپ کو سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ برقرار ہیں
اور (کچھ) نیست و نابود ہوگئیںo |
| 101.
وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ
وَلَـكِن ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ
عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ
اللّهِ مِن شَيْءٍ لَّمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ
وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍO |
|
101. اور
ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے (خود
ہی) اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو ان کے وہ جھوٹے
معبود جنہیں وہ اﷲ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام
نہ آئے، جب آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آیا، اور وہ
(دیوتا) تو صرف ان کی ہلاکت و بربادی میں ہی اضافہ
کر سکےo |
| 102.
وَكَذَلِكَ أَخْذُ
رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ
إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌO |
|
102. اور
اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہوا کرتی ہے جب وہ بستیوں
کی اس حال میں گرفت فرماتا ہے کہ وہ ظالم (بن چکی)
ہوتی ہیں۔ بیشک اس کی گرفت دردناک (اور) سخت ہوتی
ہےo |
| 103.
إِنَّ فِي ذَلِكَ
لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ
يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ
مَّشْهُودٌO |
|
103.
بیشک ان (واقعات) میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو
آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ یہ (روزِ قیامت) وہ دن
ہے جس کے لئے سارے لوگ جمع کئے جائیں گے اور یہی
وہ دن ہے جب سب کو حاضر کیا جائے گاo |
| 104.
وَمَا نُؤَخِّرُهُ
إِلاَّ لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍO |
|
104. اور
ہم اسے مؤخر نہیں کر رہے ہیں مگر مقررہ مدت کے لئے
(جو پہلے سے طے ہے)o |
| 105.
يَوْمَ يَأْتِ لاَ
تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ
شَقِيٌّ وَسَعِيدٌO |
|
105. جب
وہ دن آئے گا کوئی شخص (بھی) اس کی اجازت کے بغیر
کلام نہیں کر سکے گا، پھر ان میں بعض بدبخت ہوں گے
اور بعض نیک بختo |
| 106.
فَأَمَّا الَّذِينَ
شَقُواْ فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِـيْـرٌ
وَشَهِيقٌO |
|
106. سو
جو لوگ بدبخت ہوں گے (وہ) دوزخ میں (پڑے) ہوں گے
ان کے مقدر میں وہاں چیخنا اور چلّانا ہوگاo |
| 107.
خَالِدِينَ فِيهَا مَا
دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلاَّ مَا
شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا
يُرِيدُO |
|
107. وہ
اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین (جو اس
وقت ہوں گے) قائم رہیں مگر یہ کہ جو آپ کا رب
چاہے۔ بیشک آپ کا رب جو ارادہ فرماتا ہے کر گزرتا
ہےo |
| 108.
وَأَمَّا الَّذِينَ
سُعِدُواْ فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا
دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلاَّ مَا
شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍO |
|
108. اور
جو لوگ نیک بخت ہوں گے (وہ) جنت میں ہوں گے وہ اس
میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین (جو اس
وقت ہوں گے) قائم رہیں مگر یہ کہ جو آپ کا رب
چاہے، یہ وہ عطا ہوگی جو کبھی منقطع نہ ہوگیo |
| 109.
فَلاَ تَكُ فِي
مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـؤُلاَءِ مَا
يَعْبُدُونَ إِلاَّ كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُم مِّن
قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ
غَيْرَ مَنقُوصٍO |
|
109. پس
(اے سننے والے!) تو ان کے بارے میں کسی (بھی) شک
میں مبتلا نہ ہو جن کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں۔ یہ
لوگ (کسی دلیل و بصیرت کی بنا پر) پرستش نہیں کرتے
مگر (صرف اس طرح کرتے ہیں) جیسے ان سے قبل ان کے
باپ دادا پرستش کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور بیشک ہم
انہیں یقیناً ان کا پورا حصہء (عذاب) دیں گے جس
میں کوئی کمی نہیں کی جائے گیo |
| 110.
وَلَقَدْ آتَيْنَا
مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلاَ
كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ
بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ
مُرِيبٍO |
|
110. اور
بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب دی پھر اس
میں اختلاف کیا جانے لگا، اور اگر آپ کے رب کی طرف
سے ایک بات پہلے صادر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے
درمیان ضرور فیصلہ کر دیا گیا ہوتا، اور وہ یقینًا
اس (قرآن) کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں مبتلا
ہیںo |
| 111.
وَإِنَّ كُـلاًّ
لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ
إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌO |
|
111.
بیشک آپ کا رب ان سب کو ان کے اَعمال کا پورا پورا
بدلہ دے گا، وہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینًا وہ اس سے
خوب آگاہ ہےo |
| 112.
فَاسْتَقِمْ كَمَا
أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلاَ تَطْغَوْاْ
إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌO |
|
112. پس
آپ ثابت قدم رہئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے
اور وہ بھی (ثابت قدم رہے) جس نے آپ کی معیت میں
(اﷲ کی طرف) رجوع کیا ہے، اور (اے لوگو!) تم سرکشی
نہ کرنا، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو وہ اسے خوب دیکھ
رہا ہےo |
| 113.
وَلاَ تَرْكَنُواْ
إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ
وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ
ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَO |
|
113. اور
تم ایسے لوگوں کی طرف مت جھکنا جو ظلم کر رہے ہیں
ورنہ تمہیں آتشِ (دوزخ) آچھوئے گی اور تمہارے لئے
اﷲ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا پھر تمہاری مدد
(بھی) نہیں کی جائے گیo |
| 114.
وَأَقِمِ الصَّلاَةَ
طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ
إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ
ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَO |
|
114. اور
آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں
میں نماز قائم کیجئے۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا
دیتی ہیں۔ یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت
ہےo |
| 115.
وَاصْبِرْ فَإِنَّ
اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَO |
|
115. اور
آپ صبر کریں بیشک اﷲ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں
فرماتاo |
| 116.
فَلَوْلاَ كَانَ مِنَ
الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ
يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلاَّ
قَلِيلاً مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ
الَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا أُتْرِفُواْ فِيهِ
وَكَانُواْ مُجْرِمِينَO |
|
116. سو
تم سے پہلے کی امتوں میں ایسے صاحبانِ فضل و خرد
کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد انگیزی سے
روکتے بجز ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے جنہیں ہم
نے نجات دے دی، اور ظالموں نے عیش و عشرت (کے اسی
راستے) کی پیروی کی جس میں وہ پڑے ہوئے تھے اور وہ
(عادی) مجرم تھےo |
| 117.
وَمَا كَانَ رَبُّكَ
لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا
مُصْلِحُونَO |
|
117. اور
آپ کا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ظلمًا ہلاک کر
ڈالے درآنحالیکہ اس کے باشندے نیکوکار ہوںo |
| 118.
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ
لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ
يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَO |
|
118. اور
اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت
بنا دیتا (مگر اس نے جبراً ایسا نہ کیا بلکہ سب کو
مذہب کے اختیار کرنے میں آزادی دی) اور (اب) یہ
لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گےo |
| 119.
إِلاَّ مَن رَّحِمَ
رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ
رَبِّكَ لَأََمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ
وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَO |
|
119.
سوائے اس شخص کے جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور
اسی لئے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے، اور آپ کے رب
کا فرمان پورا ہو چکا بیشک میں دوزخ کو جِنّوں اور
انسانوں میں سے سب (اہلِ باطل) سے ضرور بھر دوں گاo |
| 120.
وَكُـلاًّ نَّقُصُّ
عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ
بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَـذِهِ الْحَقُّ
وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَO |
|
120. اور
ہم رسولوں کی خبروں میں سے سب حالات آپ کو سنا رہے
ہیں جس سے ہم آپ کے قلبِ (اَطہر) کو تقویت دیتے
ہیں، اور آپ کے پاس اس (سورت) میں حق اور نصیحت
آئی ہے اور اہلِ ایمان کے لئے عبرت (و یاددہانی
بھی)o |
| 121.
وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ
يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ
إِنَّا عَامِلُونَO |
|
121. اور
آپ ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے فرما دیں: تم
اپنی جگہ عمل کرتے رہو (اور) ہم (اپنے مقام پر)
عمل پیرا ہیںo |
| 122.
وَانتَظِرُوا إِنَّا
مُنتَظِرُونَO |
|
122. اور
تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیںo |
| 123.
وَلِلّهِ غَيْبُ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ
الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ
عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا
تَعْمَلُونَO |
|
123. اور
آسمانوں اور زمین کا (سب) غیب اﷲ ہی کے لئے ہے اور
اسی کی طرف ہر ایک کام لوٹایا جاتا ہے سو اس کی
عبادت کرتے رہیں اور اسی پر توکل کئے رکھیں، اور
تمہارا رب تم سب لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہےo |
سُورة
يُوْسُف
|
|
سورت : مکي |
ترتيب تلاوت : 12 |
ترتيب نزولي : 53 |
رکوع : 12 |
آيات : 111 |
پارہ نمبر : 12, 13 |
|
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِْيمِ |
| 1.
الر تِلْكَ آيَاتُ
الْكِتَابِ الْمُبِينِO |
|
1. الف،
لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ روشن کتاب کی
آیتیں ہیںo |
| 2.
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ
قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَO |
|
2. بیشک
ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی
اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکوo |
| 3.
نَحْنُ نَقُصُّ
عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا
إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن
قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَO |
|
3. (اے
حبیب!) ہم آپ سے ایک بہترین قصہ بیان کرتے ہیں اس
قرآن کے ذریعہ جسے ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے،
اگرچہ آپ اس سے قبل (اس قصہ سے) بے خبر تھےo |
| 4.
إِذْ قَالَ يُوسُفُ
لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ
عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ
رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَO |
|
4. (وہ
قصّہ یوں ہے) جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ
سے کہا: اے میرے والد گرامی! میں نے (خواب میں)
گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے،
میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہےo |
| 5.
قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ
تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ
لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ
عَدُوٌّ مُّبِينٌO |
|
5. انہوں
نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں
سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی پُر
فریب چال چلیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن
ہےo |
| 6.
وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ
رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ
الْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ
وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى
أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ
إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌO |
|
6. اسی
طرح تمہارا رب تمہیں (بزرگی کے لئے) منتخب فرما لے
گا اور تمہیں باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی
خوابوں کی تعبیر کا علم) سکھائے گا اور تم پر اور
اولادِ یعقوب پر اپنی نعمت تمام فرمائے گا جیسا کہ
اس نے اس سے قبل تمہارے دونوں باپ (یعنی پردادا
اور دادا) ابراہیم اور اسحاق (علیھما السلام) پر
تمام فرمائی تھی۔ بیشک تمہارا رب خوب جاننے والا
بڑی حکمت والا ہےo |
| 7.
لَّقَدْ كَانَ فِي
يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِّلسَّائِلِينَO |
|
7. بیشک
یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں (کے واقعہ)
میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیںo |
| 8.
إِذْ قَالُواْ
لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا
مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي
ضَلاَلٍ مُّبِينٍO |
|
8. (وہ
وقت یاد کیجئے) جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں
نے کہا کہ واقعی یوسف (علیہ السلام) اور اس کا
بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ
ہم (دس افراد پر مشتمل) زیادہ قوی جماعت ہیں۔ بیشک
ہمارے والد (ان کی محبت کی) کھلی وارفتگی میں گم
ہیںo |
| 9.
اقْتُلُواْ يُوسُفَ
أَوِاطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ
أَبِيكُمْ وَتَكُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْمًا
صَالِحِينَO |
|
9. (اب
یہی حل ہے کہ) تم یوسف (علیہ السلام) کو قتل کر
ڈالو یا دور کسی غیر معلوم علاقہ میں پھینک آؤ (اس
طرح) تمہارے باپ کی توجہ خالصتًا تمہاری طرف ہو
جائے گی اور اس کے بعد تم (توبہ کر کے) صالحین کی
جماعت بن جاناo |
| 10.
قَالَ قَآئِلٌ
مِّنْهُمْ لاَ تَقْتُلُواْ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ
فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ
السَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَO |
|
10. ان
میں سے ایک کہنے والے نے کہا: یوسف (علیہ السلام)
کو قتل مت کرو اور اسے کسی تاریک کنویں کی گہرائی
میں ڈال دو اسے کوئی راہ گیر مسافر اٹھا لے جائے
گا اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو (تو یہ کرو)o |
| 11.
قَالُواْ يَا أَبَانَا
مَا لَكَ لاَ تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا
لَهُ لَنَاصِحُونَO |
|
11.
انہوں نے کہا: اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوگیا ہے
آپ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار
نہیں کرتے حالانکہ ہم یقینی طور پر اس کے خیر خواہ
ہیںo |
| 12.
أَرْسِلْهُ مَعَنَا
غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ
لَحَافِظُونَO |
|
12. آپ
اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے وہ خوب کھائے اور
کھیلے اور بیشک ہم اس کے محافظ ہیںo |
| 13.
قَالَ إِنِّي
لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُواْ بِهِ وَأَخَافُ أَن
يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَO |
|
13.
انہوں نے کہا: بیشک مجھے یہ خیال مغموم کرتا ہے کہ
تم اسے لے جاؤ اور میں (اس خیال سے بھی) خوف زدہ
ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اور تم اس (کی حفاظت)
سے غافل رہوo |
| 14.
قَالُواْ لَئِنْ
أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا
إِذًا لَّخَاسِرُونَO |
|
14. وہ
بولے: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے حالانکہ ہم ایک قوی
جماعت بھی (موجود) ہوں تو ہم تو بالکل ناکارہ ہوئےo |
| 15.
فَلَمَّا ذَهَبُواْ
بِهِ وَأَجْمَعُواْ أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَةِ
الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ
لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـذَا وَهُمْ لاَ
يَشْعُرُونَO |
|
15. پھر
جب وہ اسے لے گئے اور سب اس پر متفق ہوگئے کہ اسے
تاریک کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں تب ہم نے اس کی
طرف وحی بھیجی: (اے یوسف! پریشان نہ ہونا ایک وقت
آئے گا) کہ تم یقینًا انہیں ان کا یہ کام جتلاؤ گے
اور انہیں (تمہارے بلند رتبہ کا) شعور نہیں ہوگاo |
| 16.
وَجَاؤُواْ أَبَاهُمْ
عِشَاءً يَبْكُونَO |
|
16. اور
وہ (یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینک کر) اپنے
باپ کے پاس رات کے وقت (مکاری کا رونا) روتے ہوئے
آئےo |
| 17.
قَالُواْ يَا أَبَانَا
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ
عِندَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ وَمَا
أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لِّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَO |
|
17. کہنے
لگے: اے ہمارے باپ! ہم لوگ دوڑ میں مقابلہ کرنے
چلے گئے اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے
سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑئیے نے کھا لیا،
اور آپ (تو) ہماری بات کا یقین (بھی) نہیں کریں گے
اگرچہ ہم سچے ہی ہوںo |
| 18.
وَجَآؤُوا عَلَى
قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ
لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
وَاللّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَO |
|
18. اور
وہ اس کے قمیض پر جھوٹا خون (بھی) لگا کر لے آئے،
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا: (حقیقت یہ نہیں ہے)
بلکہ تمہارے (حاسد) نفسوں نے ایک (بہت بڑا) کام
تمہارے لئے آسان اور خوشگوار بنا دیا (جو تم نے کر
ڈالا)، پس (اس حادثہ پر) صبر ہی بہتر ہے، اور اﷲ
ہی سے مدد چاہتا ہوں اس پر جو کچھ تم بیان کر رہے
ہوo |
| 19.
وَجَاءَتْ سَيَّارَةٌ
فَأَرْسَلُواْ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَى دَلْوَهُ
قَالَ يَا بُشْرَى هَـذَا غُلاَمٌ وَأَسَرُّوهُ
بِضَاعَةً وَاللّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَO |
|
19. اور
(ادھر) راہ گیروں کا ایک قافلہ آپہنچا تو انہوں نے
اپنا پانی بھرنے والا بھیجا سو اس نے اپنا ڈول (اس
کنویں میں) لٹکایا، وہ بول اٹھا: خوشخبری ہو یہ
ایک لڑکا ہے، اور انہوں نے اسے قیمتی سامانِ تجارت
سمجھتے ہوئے چھپا لیا، اور اﷲ ان کاموں کو جو وہ
کر رہے تھے خوب جاننے والا ہےo |
| 20.
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ
بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُواْ فِيهِ
مِنَ الزَّاهِدِينَO |
|
20. اور
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے (جو موقع پر
آگئے تھے اسے اپنا بھگوڑا غلام کہہ کر انہی کے
ہاتھوں) بہت کم قیمت گنتی کے چند درہموں کے عوض
بیچ ڈالا کیونکہ وہ راہ گیر اس (یوسف علیہ السلام
کے خریدنے) کے بارے میں (پہلے ہی) بے رغبت تھے
(پھر راہ گیروں نے اسے مصر لے جا کر بیچ دیا)o |
| 21.
وَقَالَ الَّذِي
اشْتَرَاهُ مِن مِّصْرَ لاِمْرَأَتِهِ أَكْرِمِي
مَثْوَاهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ
وَلَدًا وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي
الْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ
الْأَحَادِيثِ وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَO |
|
21. اور
مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا (اس کا نام قطفیر
تھا اور وہ بادشاہِ مصر ریان بن ولید کا وزیر
خزانہ تھا اسے عرف عام میں عزیزِ مصر کہتے تھے) اس
نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا: اسے عزت و اکرام سے
ٹھہراؤ! شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا
بنا لیں، اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو
زمین (مصر) میں استحکام بخشا اور یہ اس لئے کہ ہم
اسے باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی علمِ تعبیرِ
رؤیا) سکھائیں، اور اﷲ اپنے کام پر غالب ہے لیکن
اکثر لوگ نہیں جانتےo |
| 22.
وَلَمَّا بَلَغَ
أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا
وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَO |
|
22. اور
جب وہ اپنے کمالِ شباب کو پہنچ گیا (تو) ہم نے اسے
حکمِ (نبوت) اور علمِ (تعبیر) عطا فرمایا، اور اسی
طرح ہم نیکوکاروں کو صلہ بخشا کرتے ہیںo |
| 23.
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي
هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ
الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ
اللّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ
لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَO |
|
23. اور
اس عورت (زلیخا) نے جس کے گھر وہ رہتے تھے آپ سے
آپ کی ذات کی شدید خواہش کی اور اس نے دروازے
(بھی) بند کر دیئے اور کہنے لگی: جلدی آجاؤ (میں
تم سے کہتی ہوں)۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اﷲ
کی پناہ! بیشک وہ (جو تمہارا شوہر ہے) میرا مربّی
ہے اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے۔ بیشک ظالم لوگ
فلاح نہیں پائیں گےo |
| 24.
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ
وَهَمَّ بِهَا لَوْلاَ أَن رَّأَى بُرْهَانَ
رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ
وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا
الْمُخْلَصِينَO |
|
24.
(یوسف علیہ السلام نے انکار کر دیا) اور بیشک اس
(زلیخا) نے (تو) ان کا ارادہ کر (ہی) لیا تھا،
(شاید) وہ بھی اس کا قصد کر لیتے اگر انہوں نے
اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھا ہوتا۔٭ اس طرح
(اس لئے کیا گیا) کہ ہم ان سے تکلیف اور بے حیائی
(دونوں) کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے
(برگزیدہ) بندوں میں سے تھےo |
|
٭ (یا انہوں
نے بھی اس کو طاقت سے دور کرنے کا قصد کر لیا تھا۔
اگر وہ اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھ لیتے تو
اپنے دفاع میں سختی کر گزرتے اور ممکن ہے اس دوران
ان کا قمیض آگے سے پھٹ جاتا جو بعد ازاں ان کے
خلاف شہادت اور وجہ تکلیف بنتا، سو اﷲ کی نشانی نے
انہیں سختی کرنے سے روک دیا۔) |
| 25.
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ
وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا
سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاءُ
مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا إِلاَّ أَن
يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌO |
|
25. اور
دونوں دروازے کی طرف (آگے پیچھے) دوڑے اور اس
(زلیخا) نے ان کا قمیض پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور
دونوں نے اس کے خاوند (عزیزِ مصر) کو دروازے کے
قریب پا لیا وہ (فورًا) بول اٹھی کہ اس شخص کی سزا
جو تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اور
کیا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ قید کر دیا جائے
یا (اسے) درد ناک عذاب (دیا جائے)o |
| 26.
قَالَ هِيَ
رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ
أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الكَاذِبِينَO |
|
26. یوسف
(علیہ السلام) نے کہا: (نہیں بلکہ) اس نے خود مجھ
سے مطلب براری کے لئے مجھے پھسلانا چاہا اور (اتنے
میں خود) اس کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (جو
شیر خوار بچہ تھا) گواہی دی کہ اگر اس کا قمیض آگے
سے پھٹا ہوا ہے تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے
ہےo |
| 27.
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ
قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن
الصَّادِقِينَO |
|
27. اور
اگر اس کا قمیض پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی
ہے اور وہ سچوں میں سے ہےo |
| 28.
فَلَمَّا رَأَى
قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِن
كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌO |
|
28. پھر
جب اس (عزیزِ مصر) نے ان کا قمیض دیکھا (کہ) وہ
پیچھے سے پھٹا ہوا تھا تو اس نے کہا: بیشک یہ تم
عورتوں کا فریب ہے۔ یقیناً تم عورتوں کا فریب بڑا
(خطرناک) ہوتا ہےo |
| 29.
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ
هَـذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ إِنَّكِ كُنتِ
مِنَ الْخَاطِئِينَO |
|
29. اے
یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اے زلیخا!) تو
اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں
سے تھیo |
| 30.
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي
الْمَدِينَةِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ
فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍO |
|
30. اور
شہر میں (اُمراء کی) کچھ عورتوں نے کہنا (شروع) کر
دیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس سے مطلب
براری کے لئے پھسلاتی ہے، اس (غلام) کی محبت اس کے
دل میں گھر کر گئی ہے، بیشک ہم اسے کھلی گمراہی
میں دیکھ رہی ہیںo |
| 31.
فَلَمَّا سَمِعَتْ
بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ
وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ
عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّهِ
مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَا إِلاَّ مَلَكٌ
كَرِيمٌO |
|
31. پس
جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ باتیں سنیں (تو)
انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مجلس آراستہ کی
(پھر ان کے سامنے پھل رکھ دیئے) اور ان میں سے ہر
ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور (یوسف علیہ السلام
سے) درخواست کی کہ ذرا ان کے سامنے سے (ہوکر) نکل
جاؤ (تاکہ انہیں بھی میری کیفیت کا سبب معلوم ہو
جائے)، سو جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام کے حسنِ
زیبا) کو دیکھا تو اس (کے جلوہء جمال) کی بڑائی
کرنے لگیں اور وہ (مدہوشی کے عالم میں پھل کاٹنے
کے بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور (دیکھ لینے کے
بعد بے ساختہ) بول اٹھیں: اﷲ کی پناہ! یہ تو بشر
نہیں ہے، یہ تو بس کوئی برگزیدہ فرشتہ (یعنی عالمِ
بالا سے اترا ہوا نور کا پیکر) ہےo |
| 32.
قَالَتْ فَذَلِكُنَّ
الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ
عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ
يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا
مِّنَ الصَّاغِرِينَO |
|
32.
(زلیخا کی تدبیر کامیاب ہوگئی تب) وہ بولی: یہی وہ
(پیکرِ نور) ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی
تھیں اور بیشک میں نے ہی (اپنی خواہش کی شدت میں)
اسے پھسلانے کی کوشش کی مگر وہ سراپا عصمت ہی رہا،
اور اگر (اب بھی) اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہتی
ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ یقینًا بے
آبرو کیا جائے گاo |
| 33.
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ
أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ
إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَO |
|
33. (اب
زنانِ مصر بھی زلیخا کی ہم نوا بن گئی تھیں) یوسف
(علیہ السلام) نے (سب کی باتیں سن کر) عرض کیا: اے
میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ
محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو
نے ان کے مکر کو مجھ سے نہ پھیرا تو میں ان کی
(باتوں کی) طرف مائل ہو جاؤں گا اور میں نادانوں
میں سے ہو جاؤں گاo |
| 34.
فَاسْتَجَابَ لَهُ
رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ
السَّمِيعُ الْعَلِيمُO |
|
34. سو
ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے
مکر و فریب کو ان سے دور کر دیا۔ بیشک وہی خوب
سننے والا خوب جاننے والا ہےo |
| 35.
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّن
بَعْدِ مَا رَأَوُاْ الْآيَاتِ لَيَسْجُنُنَّهُ
حَتَّى حِينٍO |
|
35. پھر
انہیں (یوسف علیہ السلام کی پاک بازی کی) نشانیاں
دیکھ لینے کے بعد بھی یہی مناسب معلوم ہوا کہ اسے
ایک مدت تک قید کر دیں (تاکہ عوام میں اس واقعہ کا
چرچا ختم ہو جائے)o |
| 36.
وَدَخَلَ مَعَهُ
السِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّي
أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ
إِنِّي أَرَانِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا
تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا
بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَO |
|
36. اور
ان کے ساتھ دو جوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے۔
ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب
میں) دیکھا ہے کہ میں (انگور سے) شراب نچوڑ رہا
ہوں، اور دوسرے نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب
میں) دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے
ہوئے ہوں، اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ (اے
یوسف!) ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، بیشک ہم آپ کو
نیک لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیںo |
| 37.
قَالَ لاَ يَأْتِيكُمَا
طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلاَّ نَبَّأْتُكُمَا
بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ذَلِكُمَا
مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ
قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَهُم
بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَO |
|
37. یوسف
(علیہ السلام) نے کہا: جو کھانا (روز) تمہیں
کھلایا جاتا ہے وہ تمہارے پاس آنے بھی نہ پائے گا
کہ میں تم دونوں کو اس کی تعبیر تمہارے پاس اس کے
آنے سے قبل بتا دوں گا، یہ (تعبیر) ان علوم میں سے
ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں۔ بیشک میں نے اس
قوم کا مذہب (شروع ہی سے) چھوڑ رکھا ہے جو اﷲ پر
ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیںo |
| 38.
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ
آبَآئِـي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ مَا
كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللّهِ مِن شَيْءٍ
ذَلِكَ مِن فَضْلِ اللّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى
النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ
يَشْكُرُونَO |
|
38. اور
میں نے تو اپنے باپ دادا، ابراہیم اور اسحاق اور
یعقوب (علیھم السلام) کے دین کی پیروی کر رکھی ہے،
ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو بھی اﷲ کے
ساتھ شریک ٹھہرائیں، یہ (توحید) ہم پر اور لوگوں
پر اﷲ کا (خاص) فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں
کرتےo |
| 39.
يَا صَاحِبَيِ
السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ
أَمِ اللّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُO |
|
39. اے
میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! (بتاؤ) کیا الگ
الگ بہت سے معبود بہتر ہیں یا ایک اﷲ جو سب پر
غالب ہےo |
| 40.
مَا تَعْبُدُونَ مِن
دُونِهِ إِلاَّ أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ
وَآبَآؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللّهُ بِهَا مِن
سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ
أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ
الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ
لاَ يَعْلَمُونَO |
|
40. تم
(حقیقت میں) اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے ہو
مگر چند ناموں کی جو خود تم نے اور تمہارے باپ
دادا نے (اپنے پاس سے) رکھ لئے ہیں، اﷲ نے ان کی
کوئی سند نہیں اتاری۔ حکم کا اختیار صرف اﷲ کو ہے،
اسی نے حکم فرمایا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی
عبادت نہ کرو، یہی سیدھا راستہ (درست دین) ہے لیکن
اکثر لوگ نہیں جانتےo |
| 41.
يَا صَاحِبَيِ
السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ
خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ
الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ قُضِيَ الأَمْرُ الَّذِي
فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِO |
|
41. اے
میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں سے ایک (کے
خواب کی تعبیر یہ ہے کہ وہ) اپنے مربّی (یعنی
بادشاہ) کو شراب پلایا کرے گا، اور رہا دوسرا (جس
نے سر پر روٹیاں دیکھی ہیں) تو وہ پھانسی دیا جائے
گا پھر پرندے اس کے سر سے (گوشت نوچ کر) کھائیں
گے، (قطعی) فیصلہ کر دیا گیا جس کے بارے میں تم
دریافت کرتے ہوo |
| 42.
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ
أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ
رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ
فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَO |
|
42. اور
یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا جسے ان دونوں
میں سے رہائی پانے والا سمجھا کہ اپنے بادشاہ کے
پاس میرا ذکر کر دینا (شاید اسے یاد آجائے کہ ایک
اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے
اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا نتیجۃً
یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانہ میں ٹھہرے
رہےo |
| 43.
وَقَالَ الْمَلِكُ
إِنِّي أَرَى سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ
يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ
سُنْبُلاَتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ يَا
أَيُّهَا الْمَلأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن
كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَO |
|
43. اور
(ایک روز) بادشاہ نے کہا: میں نے (خواب میں) سات
موٹی تازی گائیں دیکھی ہیں، انہیں سات دبلی پتلی
گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے (دیکھے) ہیں
اور دوسرے (سات ہی) خشک، اے درباریو! مجھے میرے
خواب کا جواب بیان کرو اگر تم خواب کی تعبیر جانتے
ہوo |
| 44.
قَالُواْ أَضْغَاثُ
أَحْلاَمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلاَمِ
بِعَالِمِينَO |
|
44.
انہوں نے کہا: (یہ) پریشاں خوابیں ہیں، اور ہم
پریشاں خوابوں کی تعبیر نہیں جانتےo |
| 45.
وَقَالَ الَّذِي نَجَا
مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَاْ
أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِO |
|
45. اور
وہ شخص جو ان دونوں میں سے رہائی پا چکا تھا بولا،
اور (اب) اسے ایک مدت کے بعد (یوسف علیہ السلام کے
ساتھ کیا ہوا وعدہ) یاد آگیا: میں تمہیں اس کی
تعبیر بتاؤں گا سو تم مجھے (یوسف علیہ السلام کے
پاس) بھیجوo |
| 46.
يُوسُفُ أَيُّهَا
الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ
سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ
سُنْبُلاَتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَّعَلِّي
أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَO |
|
46. (وہ
قید خانہ میں پہنچ کر کہنے لگا:) اے یوسف، اے صدقِ
مجسّم! آپ ہمیں (اس خواب کی) تعبیر بتا دیں کہ سات
فربہ گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں
اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے سات خشک؛ تاکہ میں
(یہ تعبیر لے کر) واپس لوگوں کے پاس جاؤں شاید
انہیں (آپ کی قدر و منزلت) معلوم ہو جائےo |
| 47.
قَالَ تَزْرَعُونَ
سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ
فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا
تَأْكُلُونَO |
|
47. یوسف
(علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ دائمی عادت کے مطابق
مسلسل سات برس تک کاشت کرو گے سو جو کھیتی تم کاٹا
کرو گے اسے اس کے خوشوں (ہی) میں (ذخیرہ کے طور
پر) رکھتے رہنا مگر تھوڑا سا (نکال لینا) جسے تم
(ہر سال) کھا لوo |
| 48.
ثُمَّ يَأْتِي مِن
بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا
قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا
تُحْصِنُونَO |
|
48. پھر
اس کے بعد سات (سال) بہت سخت (خشک سالی کے) آئیں
گے وہ اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم ان کے لئے
پہلے جمع کرتے رہے تھے مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا)
جو تم محفوظ کر لوگےo |
| 49.
ثُمَّ يَأْتِي مِن
بَعْدِ ذَلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ
وَفِيهِ يَعْصِرُونَO |
|
49. پھر
اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو
(خوب) بارش دی جائے گی اور (اس سال اس قدر پھل ہوں
گے کہ) لوگ اس میں (پھلوں کا) رس نچوڑیں گےo |
| 50.
وَقَالَ الْمَلِكُ
ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ
ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ
النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ
إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌO |
|
50. اور
(یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا: یوسف (علیہ
السلام) کو (فورًا) میرے پاس لے آؤ، پس جب یوسف
(علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا:
اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ
(کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے
ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکر و فریب
کو خوب جاننے والا ہےo |
| 51.
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ
إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ قُلْنَ
حَاشَ لِلّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ
الْحَقُّ أَنَاْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ
وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَO |
|
51.
بادشاہ نے (زلیخا سمیت عورتوں کو بلا کر) پوچھا:
تم پر کیا بیتا تھا جب تم (سب) نے یوسف (علیہ
السلام) کو ان کی راست روی سے بہکانا چاہا تھا
(بتاؤ وہ معاملہ کیا تھا)؟ وہ سب (بہ یک زبان)
بولیں: اﷲ کی پناہ! ہم نے (تو) یوسف (علیہ السلام)
میں کوئی برائی نہیں پائی۔ عزیزِ مصر کی بیوی
(زلیخا بھی) بول اٹھی: اب تو حق آشکار ہو چکا ہے
(حقیقت یہ ہے کہ) میں نے ہی انہیں اپنی مطلب براری
کے لئے پھسلانا چاہا تھا اور بیشک وہی سچے ہیںo |
| 52.
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ
أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللّهَ
لاَ يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَO |
|
52.
(یوسف علیہ السلام نے کہا: میں نے) یہ اس لئے (کیا
ہے) کہ وہ (عزیزِ مصر جو میرا محسن و مربّی تھا)
جان لے کہ میں نے اس کی غیابت میں (پشت پیچھے) اس
کی کوئی خیانت نہیں کی اور بیشک اﷲ خیانت کرنے
والوں کے مکر و فریب کو کامیاب نہیں ہونے دیتاo |